20 اپریل 2016 - 13:56
لندنی تشیع کی حقیقت کا جائزہ کے موضوع پرمنعقدہ سیمینار سے آیت اللہ قرھی کا خطاب

باطل،حق کےمحاذ کے ساتھ جو پہلا کام کرتا ہے وہ قتل وغارت ہے اور اگروہ انہیں اپنے راستے نہ ہٹا سکے تو وہ دوسرے مرحلے میں ان کے اندرنفوذ کرتا ہے۔ لہذا وہ اپنے آپ کو حق کا ایک حصہ قراردے کرجھوٹے مفاہیم پیش کرتا ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق حوزہ علمیہ امام مہدی علیہ السلام کے سربراہ آیت اللہ روح اللہ قرھی نے ١۹اپریل کو لندنی تشیع کی حقیقت کا جائزہ کے موضوع پرمنعقدہ سیمینارسے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ سب سے پہلے ضروری ہے کہ لندنی تشیع کا تنقیدی جائزہ لینے کے لیے متعدد پروگرام منعقد ہونے چاہییں اورفقط ایک پروگرام پراکتفا نہیں کرنا چاہیے۔ کیا لندنی تشیع ہمارے دورسے متعلق ہے؟ اس جہان میں حق اورباطل تو ابتدا سے موجود ہے۔

انہوں نے پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک حدیث کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ خلقت کی ابتداء سے ہی حق اورباطل موجود تھے۔ ایک طرف ہدایت ہے تو اس کے مقابلے میں دوسری طرف ضلالت اورگمراہی ہے۔ پوری تاریخ میں یہودیوں کی طرف سے اسلام اورمسلمانوں کے خلاف سازشیں ہوتی رہی ہیں۔
آیت اللہ قرھی نے سورہ مبارکہ ناس کی آخری آیت﴿من الجنة والناس﴾ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ جس طرح الہی ہادی ہم انسانوں کی جنس میں سے ہیں اسی طرح شیطان کا لشکربھی ہم انسانوں میں سے ہے۔ الہی ہادی اپنے نفس کی بجائے ہمارے الہی امرکی طرف دعوت دیتے ہیں۔
انہوں نےمزید کہا ہےکہ الہی قانون یہ ہے کہ باطل کے ساتھ مل جانے سے شکست مقدربنتی ہے اوراہل حق کا ساتھ دینے سے فتح وکامرانی نصیب ہوتی ہے۔ بہت تھوڑا حق بہت زیادہ باطل کو تباہ کردیتا ہے جس طرح آگ بہت زیادہ لکڑیوں کو جلا دیتی ہے۔
آیت اللہ قرھی نے آخرمیں کہا ہے کہ ان گمراہ گروپوں کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک راستہ موجود ہے اور وہ یہ کہ ہمیں قرآن کریم میں موجود امام اورامت کی بحث کو پیش کرنا چاہیے۔ ظہورسے پہلے امام اورامت کے موضوع کی پریکٹس کرنی چاہیے۔ اس مسئلے کی وضاحت ہونی چاہیے کہ اگرچہ ایک شخص مرجع تقلید ہی کیوں نہ ہو اسے امام کے فرمان کے تابع ہونا چاہیے۔

.......

/169